عشاء کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت مؤکدہ ہیں یا غیر مؤکدہ
سوال
عشاء سے پہلے جو چار رکعت سنت سمجھ کر لوگ پڑھتے ہیں یہ سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟ ان کا ثبوت حضور اکرم ﷺ سے ہے یا نہیں؟ میں نے سنا ہے کہ ان کا ثبوت حضور اکرم ﷺ سے نہیں ہے، کیا یہ بات درست ہے؟
جواب
صراحہ اس کا ثبوت حدیث سے نہیں ملتا، اس کو سنتِ مؤکدہ کہنا صحیح نہیں، ایک روایت عمومی ہے کہ ہر دو اذان واقامت کے درمیان نماز ہے، اس عام روایت کے ذیل میں یہ سنتیں بھی داخل ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔