لا صلوةَ إِلَّا بِحُضُور القلب
سوال
لا صَلوةَ اَلَا بِحُضُورِ الْقَلْبِ (ترجمہ) حضور قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی، حضور قلب سے کیا مراد ہے؟ یہ جو دنیا کے خیالات نماز میں آتے ہیں، کبھی حضور قلب رہتا ہے، اور کبھی نہیں، تو جتنی دیر حضور قلب نہ ہو وہ نماز میں شمار آئے گی یا نہیں؟ اگر کسی شخص نے دورکعت فرض کی نیت سے نماز شروع کی لیکن درمیان نماز میں اس نے خیال کیا کہ میں سنت پڑھ رہا ہوں، پھر سلام پھیر دیا بعد میں یاد آیا کہ نہیں وہ نماز فرض کی نیت سے شروع کی تھی، تو ایسی نماز فرض قرار پائے گی یا نہیں؟ کیا اس کو فرض مکرر پڑھنے ہوں گے؟
جواب
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر حضور قلب باقی نہ رہے تو نماز باطل ہو جاتی ہے، اور فریضہ ذمہ میں باقی رہتا ہے، اس لئے کہ ادائے فریضہ کے لئے جو شرائط وارکان فقہاء نے بیان کئے ہیں ان میں حضور قلب کو شمار نہیں کیا ہے، پس اگر نماز میں کچھ خیالات آئیں تو نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ حضور قلب والی نماز کا درجہ بھی حاصل نہیں ہوگا، محض اس درمیانی خیال سے وہ فرض نماز سنت نہیں بنے گی، جبکہ فرض…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔