الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا بغیر حضور قلب کے نماز نہیں ہوتی

سوال

بعض پیروں کے مریدین نماز کی پابندی نہیں کرتے اور بعض نماز بالکل نہیں پڑھتے، اگر نماز کے بارے میں ان لوگوں کو کہا جائے تو جواب دیتے ہیں کہ جب تک قلب حاضر نہ ہوگا نماز قبول نہیں ہوتی، اور بعض قائل ہیں کہ نماز صرف دل سے پڑھنی کافی ہے، شرعا یہ لوگ کیا حکم رکھتے ہیں؟

جواب

نماز فرض عین ہے، اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے، اور بلا عذر شرعی اس کا تارک فاسق ہے نماز فقط قلب سے ہرگز ادا نہیں ہوتی، یہ عقیدہ اسلام کے خلاف ہے، ایسے عقیدہ والوں کو فورا توبہ کرنا فرض ہے، اور احتیاطاً تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کر لینا چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو