نماز میں لاؤڈ اسپیکر
سوال
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری مسجد میں ایک لاؤڈ اسپیکر لگا گیا ہے اس سے اذان دینے میں تو ساری جماعت متفق ہے کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ اعلان ہوتا ہے اور شرع کا بھی یہی مقصود ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ اس میں پانچ وقت نماز بھی پڑھائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ سری نماز میں لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین صفیں ہوتی ہیں جس میں امام کی آواز بآسانی سب تک پہونچ جاتی ہے اس صورت میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بالکل اسراف ہے اور جہری نماز میں امام کی قراءت کی آواز دور سے دور تک جاتی ہے اور مسجد سے باہر ہر مشغول اور غیر…
جواب
نماز کو جہاں تک ہو سکے اصلی اور سادہ طریقہ سے ادا کیا جائے۔ سری یا جہری نماز میں مقتدیوں تک اگر آواز نہ پہونچتی ہو تو مکبرین کا انتظام کیا جاوے۔ امام کی آواز کا صف تک پہونچنا ضروری نہیں مقتدی امام سے قریب ہو دور ہو بھی کو اجر ملے گا خواہ آواز سنی ہو یا نہ سنی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔