الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز میں حوروں کا تصور

سوال

زید جب نماز پڑھتا ہے تو اسے بذریعہ قرآت امام حوروں کا ذکر معلوم ہو جاتا ہے،اس کی وجہ سے اس کا ذہن منتشر ہو جاتا ہے، اسی طرح کبھی بیوی کا خیال بھی آ جاتا ہے یہاں تک کہ پوری نماز ختم ہو جاتی ہے، اور یہ تصورات بغیر قصد کے ہوتے ہیں؟

جواب

نماز میں بے اختیار بیوی اور حوروں کا تصور ہو جائے اور انتشار پیدا ہو جانے کے بعد اگر زید اس تصور سے لذت اندوز نہیں ہوتا اور ان خیالات میں منہمک نہیں ہوتا، بلکہ ان خیالات کو دور کر کے نماز کی طرف متوجہ رہنے کی کوشش کرتا ہے، تو زید گنہ گار نہیں ہو گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو