اخراج ریح کا تقاضا نہ ہونے کی صورت میں نماز
سوال
وہ شخص جس کو بعد وضو کرنے کے خروج ریح کا شبہ ہو یا تقاضا ہوا مگر قصداً ریح خارج نہ کی پھر ریح جسم کے اندر سرایت کر گئی جس سے دماغ پر بھاری پن ظاہر ہو گیا، بعدہ یہ خیال کر کے کہ اب تقاضا نہیں رہا نماز پڑھنی یا پڑھانی شروع کردی، پھر درمیان نماز خروج ریح کا تقاضا ہوا، تو اب نماز مکمل کرے یا سلام پھیر دے وضو کے بعد جو صورت اختیار کی گئی اس سے نماز ہوگئی یا نہیں؟
جواب
جب تقاضا ریح ختم ہو گیا خواہ کسی وجہ سے ہوا ہو اسکو نماز پڑھنا اور پڑھانا بلا کراہت درست ہو گیا پھر درمیان نماز اگر تقاضہ شدید ہو کہ تدافع کی صورت پیدا ہو جائے تو نماز کو قطع کر دے، اخراج ریح اور تجدید وضو کے بعد پھر پڑھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔