الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز میں کھانسنا

سوال

(۱) ایک شخص کہتا ہے کہ جب امام مصلی پر نماز کی نیت باندھنے کے بعد کھانس پڑے تو اس نے اپنے اوپر کفر کیا وہ منافق بھی ہو گیا نماز بھی فاسد ہو گئی اور اس امام کے پیچھے نماز بھی جائز نہیں؟ (۲) میں نفیس احمد مجھے امامت کراتے ہوئے تقریباً چودہ سال ہو گئے ہیں اور میں نے جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ ضلع سہارنپور میں تعلیم پائی ہے میں نے ایک کتاب میں دیکھا ہے کہ وقت ضرورت کھانس سکتے ہیں؟

جواب

(۱) کھانسی غیر اختیاری چیز ہے حضرت نبی اکرم ﷺ کو بھی نماز پڑھانے کی حالت میں کھانسی آئی ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کھانسی آنے پر امام کو کافر یا منافق کہنا بہت سخت بات ہے وہ شخص فوراً توبہ کرے۔ (۲) (۱) میں اس کا جواب آگیا۔ خود بھی ضرورت پر کھانسنا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو