قراءت خلف الامام
سوال
زید کا قول ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ بکر کہتا ہے کہ بلا فاتحہ کے نماز نہیں ہوگی اور حضور ﷺ نے ہمیشہ اس کو کیا ہے۔ اگر نہ پڑھنا ثابت ہے تو قرآن وحدیث و آثار صحابہ سے ثابت کیجئے۔
جواب
حنفیہ کی دلیل اس مسئلہ میں اِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا الآية ہے۔ اور موطا کی یہ روایت ہے عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلى خلف الامام فان قراءة الامام له قراءة اھ یہ حدیث جابر بن عبداللہ ابن عمر، ابو سعید خدری، ابو ہریرہ، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ ہر ایک کی پوری تخریج نصب الرایہ میں ہے۔ واذا قرأ فانصتوا الحدیث۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔