قراءت خلف الامام
سوال
امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں اس کا جواب قرآن وحدیث سے مفصل ومدلل مرحمت فرمایا جائے۔ کیونکہ استفتاء ہذا سے قبل دو فتاوی حاصل کئے گئے جس میں سے ایک میں ممانعت اور دوسرے میں سورۂ فاتحہ کا پڑھنا ضروری قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہاں پر دونوں قسم کے خیالات کے ہی اشخاص موجود ہیں اور ہر دو فتاوی سے ہر دو فریق کے خیالات کی تقویت ہو گئی لیکن خدا کے فضل سے رنجش و درشتی کی نوبت نہیں بلکہ ہر دو خیالات کے اشخاص صحیح راستہ حاصل کرنے کے آرزومند ہیں اس کے علاوہ ہر دو فتاویٰ میں عربی عبارت ہے جس کو اردو داں نہیں سمجھ سکے…
جواب
مقلد کا منصب یہ ہے کہ اس کے امام نے قرآن وحدیث کو سمجھ کر جو مسائل استنباط کئے ہیں ان پر عمل کرے ماخذ اور دلیل کے علم پر عمل کو موقوف نہ رکھے اگر ہر ہر مسئلہ کی دلیل اور ماخذ پر عمل کو موقوف رکھے گا تو سخت دشواری کا سامنا ہوگا کیونکہ ہر مقلد کا علم اور فہم اس قدر وسیع نہیں کہ ہر ہر مسئلہ کی دلیل کو معلوم کر سکے اور سمجھ سکے اس لئے اسلم طریقہ یہ ہے کہ جو مسائل امام سے منقول ہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔