امام صاحب کے کھانے کے لئے شرائط
سوال
ہمارے یہاں ایک مدرس ہیں جو اپنے آپ کو عالم کہلاتے ہیں لیکن ان کے کارنامے ایسے ہیں کہ اکثریت ان کے خلاف ہے صرف چار پانچ آدمی جو کارکن بنے ہوئے ہیں انہوں نے زبر دستی روک رکھا ہے اور جھگڑا ہر وقت تیار رہتا ہے کیوں کہ کھانے میں ان کی کچھ ایسی شرطیں ہیں جو غریب عوام برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کی عمر ۳۵ سال ہے شادی ابھی تک نہیں کی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ جہاں پر اتنے لوگ نا خوش ہوں امام صاحب کو خود ہی استعفیٰ دینا نہیں چاہئے؟ وضاحت کے ساتھ لکھیں تا کہ عوام وامام خود سمجھ لیں۔
جواب
امام کے متعلق آپ نے اتنا ہی لکھا ہے کہ ان کی کھانے کی شرائط ایسی ہیں غریب عوام برداشت نہیں کر سکتے۔ تو یہ کچھ لڑائی اور اختلاف کی بات نہیں۔ اگر وہاں کے لوگ ان کی شرائط کے موافق کھانا نہیں دے سکتے تو عذر کر دیں، جو لوگ دے سکتے ہیں وہ اپنے ذمہ کھانا متعین کر لیں غرض جھگڑے سے بچنا لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔