مبتدع کی امامت
سوال
ایک چھوٹی اسٹیٹ میں صرف ایک مسجد ہے جس میں نماز ہوتی ہے مسجد کی امامت شہر قاضی صاحب کے (جو شافعی مذہب کے ہونے کے علاوہ رسومات محرم الحرام کے حامی، عربی علوم میں بھی کما حقہ عبور نہیں) نائب جو حنفی ہیں اور ملازم سرکار مغرب میں صرف آکر نماز پڑھاتے ہیں اور گاہ بگاہ عشاء بھی اور نماز جمعہ ہمیشہ بقیہ اوقات میں جماعت نہ ہونے کے باعث مقتدیان نے دوسرے پیش امام کا تقرر کیا جو حالات حاضرہ کے مطابق خطبہ دیتے ہیں اور قرآن شریف تجوید کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
جواب
سوال میں چند امور غور طلب ہیں: اول: یہ کہ امام شافعی المذہب ہے اس کے متعلق فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر امام شافعی المذہب کے متعلق معلوم ہو کہ وہ مقتدی کے مذہب کی رعایت کرتا ہے تب تو اس کا اقتداء صحیح ہے اگر معلوم ہو کہ وہ رعایت نہیں کرتا تو اقتداء صحیح نہیں اگر رعایت وعدم رعایت کا کچھ علم نہ ہو تو اس کا اقتداء مکروہ ہے اگر بعد میں امام کے متعلق کسی ایسی چیز کا علم ہو کہ وہ مقتدی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔