چڑھاوا اور دیگ چڑھانے والے کی امامت
سوال
ہم لوگ جماعت دیوبندیہ کے ساتھ ہیں اور ہماری مسجد کے امام صاحب قبروں پر چڑھاوا چڑھاتے ہیں اور پیروں کے نام کی دیگیں بھی کرتے ہیں اور دیو بندی علماء کو بُرا بھلا کہتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں نے سب پر ہاتھ پھیر رکھا ہے۔ وہ تبلیغ کو غلط بات کہتے ہیں، وہ سنت کو ایک ایک رکعت کر کے پڑھتے ہیں۔ کیا ہماری نماز ایسے امام کے پیچھے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ ان کا رکھنا کیسا ہے؟
جواب
قبروں پر چڑھاوا چڑھانا، پیروں کے نام کی دیگیں کرنا، علماء حق کو بُرا کہنا، سنتیں مستقل ترک کرنا، یہ ایسی خرابیاں ہیں کہ جب تک ان سے توبہ نہ کرے اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔