بریلوی کی امامت
سوال
ایک شخص بریلوی خیال کا ہے اس کا عقیدہ ہے کہ رسول الله ﷺ عالم الغیب ہیں اور آپ مختار کل ہیں۔ نیز آپ ﷺ ہر جگہ حاضر وناظر ہیں اور یہ شخص ایک مسجد میں امامت بھی کرتا ہے آیا اس شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
جواب
یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے حضور اکرم ﷺ کے لئے اس صفت کو ماننا بے دلیل ہے بلکہ خلاف نص ہے اس لئے ایسے شخص کو امام بنانا درست نہیں ہے۔ تمام نمازیوں کو چاہئے کہ ایسے شخص کو امامت سے ہٹا کر دوسرے صحیح العقیدہ مسائل طہارت ونماز سے واقف متبع سنت آدمی کو امام تجویز کریں ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔