بدعتی کی امامت
سوال
زید ایک عالم ہونے کی حیثیت رکھتا ہے مگر بدعتیوں کا ساتھ دیتا ہے انکی دعوتیں وغیرہ کھاتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے۔ جولاعلمی میں نمازیں پڑھی گئی ہیں وہ ہوئیں یا نہیں؟
جواب
کیا زید خود بھی بدعت کرتا ہے پھر وہ بدعت کیسی ہے اگر شرک کی حد تک پہونچتی ہے جیسے قبر کو سجدہ کرنا تو اس کے پیچھے نماز نا جائز ہے اگر معمولی بدعت ہے جو گناہ صغیرہ کے درجہ میں ہے تو نماز جائز ہے۔ اگر گناہ کبیرہ کے درجہ میں ہے تو اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے جب کہ اس سے بہتر امامت کے لائق دوسرا شخص موجود ہو۔ تا وقتیکہ بدعت کی تعیین نہ کی جائے کہ وہ کیا بدعت کرتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔