الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

منکرین قرآن وحدیث اور فاسق کے مرید کی امامت

سوال

ایک امام ہے وہ ایک بے نمازی ڈاڑھی منڈے ہوئے فاسق کے ہاتھ پر بیعت ہو گیا اور اس کو دو عالموں نے سمجھایا اور کہا کہ جب تک شریعت ساتھ نہ ہوگی طریقت حاصل نہیں ہو سکتی ہے کلام پاک وحدیث سے ثابت ہے تو وہ غصہ ہو گیا اور کہا کہ میں کلام پاک وحدیث کو نہیں مانتا اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے کیا کرنا چاہئے۔ اب اس نے بیعت کو فسخ کر دیا ہے کیا اس کے پیچھے نماز درست ہے؟

جواب

جب امام صاحب نے کہا کہ میں کلام پاک وحدیث شریف کو نہیں مانتا تو اس کو ہرگز امام نہ بنایا جائے، جب تک کہ وہ اپنی غلطیوں کا اقرار کر کے توبہ واستغفار وتجدید ایمان وتجدید نکاح نہ کرے شریعت کو ترک کر کے طریقت حاصل نہیں کی جاسکتی بے نمازی ڈاڑھی منڈے فاسق کے ہاتھ پر بیعت ہونے سے خدائے پاک کی خوشنودی حاصل نہ ہوگی بلکہ شیطان کی خوشنودی حاصل ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو