ایک شخص کا دو مسجدوں میں امامت کرنا
سوال
ایک شخص یا ایک امام دو مسجدوں میں ایک وقت میں کیسے امامت واقامت کر اسکتا ہے کسی امام کو ایک ایسی مسجد ملی ہوئی ہے کہ جس کی آمدنی کے لئے پچاس چالیس بیگہ زمین صحرائی ملک ہے اور اس میں ایک باغ اور تکیہ جس کی آمدنی امام مذکور اپنے خرچ میں لاتے ہوں اور اس تکیہ وباغ میں ایک مزار بھی ہے جس کا چڑھاوا وغیرہ بھی امام صاحب لیتے ہوں، اس باغ کی مسجد کی امامت واقامت امام صاحب مذکور پر فرض ہے یا نہیں اور پھر یہ امام صاحب اپنی طمع نفسی کی وجہ سے بستی کی مسجد کے بھی امام رہتے ہیں ایسے شخص کے ساتھ یا پیچھے نماز درست یا جائز ہے یا…
جواب
جب ایک شخص کو معاوضہ مقرر کر کے ایک مسجد کی امامت کے لئے رکھا ہو تو اس مسجد کی امامت اس کے ذمہ ضروری ہے اس مسجد کو چھوڑ کر کسی دوسری مسجد میں امامت کے لئے جانا نا جائز ہے اگر اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں جا کر امامت کرائے گا تو وہ اس معاوضہ مقررہ کا مستحق نہ ہوگا۔ اگر امام مذکور ایک ہی نماز دو مرتبہ دو مسجدوں میں پڑھاتا ہے تو دوسری نماز درست نہیں ہوتی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔