الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فیملی پلاننگ سے توبہ!

سوال

یہ تو معلوم ہے کہ فیملی پلاننگ نا جائز ہے، اور خشیت املاق قلتِ رزق کی وجہ سے آپریشن یا مانع حمل کی ادویہ استعمال کرنا یا عزل یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ البتہ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی نیم تعلیم یافتہ آپریشن کرائے اور بعد میں جب پوچھ تاچھ شروع ہو تو وہ مولوی صاحب مجمع عام میں جامع مسجد کے ایک مفتی صاحب کے سامنے اعلانیہ توبہ کریں اور مفتی صاحب اس کو توبہ کرانے کے بعد اس کے پیچھے نماز جائز قرار دے تو آیا اس کی توبہ قبول ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں۔

جواب

توبہ جب سچے دل سے ہوگئی تو انشاء اللہ توبہ قبول ہوگئی اللہ پاک کا وعدہ ہے کسی کو کہنے کا حق نہیں کہ فلاں کی توبہ قبول نہیں البتہ اگر کوئی شخص اس لئے توبہ کا اعلان کرے کہ اس کو امامت سے الگ کر دیا گیا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی اور اب وہ گویا کہ بے روز گار ہو گیا اس کا اقتدار جا تا رہے تو ظاہر ہے کہ یہ توحقیقی توبہ نہیں نمازی اس کو تسلیم کرنے کے مکلف بھی نہیں مگر دل کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو