امام کا نوجوان بیواؤں سے پاؤں دبوانا!
سوال
ایک امام مسجد کچھ دنوں سے بیمار تھے نوجوان ہیں اور غیر شادی شدہ بھی انہوں نے بھتیجے کی بیوی کو جو بیوہ ہے اور نوجوان بھی ہے اپنی خدمت کے لئے رکھ لیا ہے اس سے پیر بھی دبواتے ہیں، جب نمازیوں نے اعتراض کیا تو جواب دیا کہ ہسپتالوں میں نرسیں بھی تو رہتی ہیں، اب نمازیوں میں دو گروپ ہو گئے ہیں ایک کہتا ہے کہ وہ بیٹی سمجھ کر پیر دبواتے ہیں، دوسرا کہتا ہے کہ یہ عورت بیوہ غیر محرم ہے اس سے ایسی خدمت کیوں لی گئی۔ اب ان امام کے متعلق علماء دین کا کیا فتوی ہے؟
جواب
امام صاحب کو چاہئے کہ اس بیوہ سے نکاح کر لیں پھر اس طرح کی خدمت لیں نامحرم سے اس طرح خلط ملط نہ رکھیں اگر امام نہ مانیں تو ان کو امامت سے الگ کر کے کسی پابند شریعت اور متبع سنت کو امام تجویز کر لیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔