تمباکو نوش اور سنیما ہیں شخص کی امامت
سوال
ایک امام مسجد ہے وہ سنیما وغیرہ دیکھتا ہے، حالانکہ وہ عالم بھی ہے، بیڑی، سگریٹ کثرت سے پیتا ہے اور پان میں تمباکو چونا وغیرہ ملا کر کھاتا ہے، مسجد کے تمام مقتدی اس کے اس فعل سے سخت ناراض ہیں، کئی بار سمجھایا گیا مگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے بلکہ حجت سے کام لیتے ہیں اور ہم نا خواندہ کو مکروہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں، ہماری ان کی گفتگو نا گفتہ بہ ہو چکی ہے اب سوال یہ ہے کہ تمباکو اور اس کے استعمال کرنے والے کے لئے کتاب وسنت وفقہ کے اعتبار سے کیا حکم ہے اور اس کی امامت کیسی ہے؟ جواب سے نوازیں۔
جواب
بد بودار تمباکو کھانا بد بو کی وجہ سے مکروہ ہے۔ البتہ مسجد میں جانے سے پہلے مسواک وغیرہ کے ذریعہ منہ صاف کر لینا چاہئے اگر تمباکو خوشبودار ہو تو وہ مکروہ بھی نہیں البتہ اگر تمباکو نشہ آور ہو جس سے عقل جاتی رہے تو اس کا کھانا پینا حرام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔