الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وعدہ خلاف کی امامت

سوال

زید تجارت کرتا ہے مگر قرض وقت پر ادا نہیں کرتا بلکہ وعدہ پر وعدہ کرتا رہتا ہے اکثر اشخاص کو تجارت میں شرکت کی دعوت دے کر روپیہ وصول کر لیتا ہے اور ادائیگی میں حیلہ بہانہ کرتا رہتا ہے۔ بکر سے زیور مستعار لیا جاتا ہے کہ ان کی اہلیہ کسی شادی میں شریک ہوں گی اور تین چار یوم کا وعدہ کیا جاتا ہے مگر وقت پر واپس نہیں کیا جاتا۔ متعدد تقاضوں پر مختلف بہانوں سے جواب ملتا ہے بالآخر اقرار کیا جاتا ہے کہ زیور رہن رکھا ہے اور اہلیہ کہیں نہیں گئی۔

جواب

بلا وجہ شرعی وعدہ خلافی کرنا نا جائز اور گناہ ہے۔ اگر وعدہ کرتے وقت تو پورا کرنے کی نیت تھی لیکن بعد میں کسی مجبوری سے پورا نہیں کر سکا تو اس میں مضائقہ نہیں مسئلہ بتانے پر چیں بجبیں ہونا بھی برا ہے۔ اگر زید کی وعدہ خلافی اور بد معاملگی کی عادت ہو گئی ہے جس سے دوسروں کو بھی اذیت ہوتی ہے تو اولاً زید کو نرمی سے سمجھانا چاہئے کہ یہ عادت خلاف شرع اور نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو