الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف بورڈ سے متعلق ایک مسجد کے امام کے حالات

سوال

(۱) امام مسجد کا عام رویہ مقتدیان مسجد کے ساتھ ترش روئی کا رہتا ہے اور مقتدی ان سے ہمیشہ ناراض رہتے ہیں۔ شرعی اعتبار سے اس امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ (۲) جب جی میں آیا اذان دیتے ہیں اور جب جی میں آیا جماعت کرتے ہیں جن سے مقتدیوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ ان سے بارہا کہا گیا کہ اذان اور جماعت کا وقت مقرر فرمادیجئے آج تک امام صاحب مذکور نے وقتِ اذان وجماعت پنجگانہ مقرر نہیں کیا۔ اس بات پر اصرار کیا گیا تو فرماتے ہیں کہ میں بورڈ کا ملازم ہوں، میرا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جواب

امام صاحب کی ان کوتاہیوں اور غلطیوں کے باوجود جو نمازیں ان کی اقتداء میں پڑھی گئی ہیں وہ ادا ہو گئیں۔ ان کے لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ جب کہ دوسری مسجد نماز کے لئے وہاں کھلی ہوئی نہیں ہے تو مجبوراً امام موصوف کے پیچھے نماز ادا کرتے رہیں۔ جماعت مسجد ترک نہ کریں۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم نے حجاج ابن یوسف کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ جماعت ترک نہیں کی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو