امام کی خرابیاں
سوال
ایک شخص عالم ہے لیکن بہرہ ہے۔ چیخ پکار کے ذریعہ ہی سن سکتا ہے۔ نماز میں مقتدی آواز سے اشارہ کرتے ہیں تو بعض وقت درستی کر لیتا ہے اور بعض وقت نہیں منبر پر ایسے شخص کی تعریف کرتا ہے جس سے ذاتی مفاد ہو اور جس سے رنجیدگی ہوتی ہے اس کی مذمت وعیب جوئی کرتا ہے جھوٹے مقدمہ پر اپنے احباب واقارب کی اعانت کرتا ہے اور خاص دلچسپی رکھتا ہے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اس کا کافی دخل ہے، کیا ان سب نقائص کے پیش نظر ایسے امام کی امامت نا جائز ہے یا جائز؟
جواب
اگر حالات یہی ہیں تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ ہے جب کہ اس سے بہتر امامت کے لائق دوسرا آدمی موجود ہو، غیبت، عیب جوئی، غلط تعریف، جھوٹے مقدمہ بازی میں اعانت، ان میں ہر وجہ مستقل نقص ہے، سیاسی پارٹی سے تعلق صحیح نقص نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔