جعلساز وفریبی کی امامت
سوال
ایک شخص مسمی محی الدین جس پر ہم لوگوں کے بہت احسان ہیں۔ چچا مرحوم نے انہیں نہایت پریشانی اور خستہ حالی کے وقت ایک کمرہ کرایہ پر دلایا، کھانے وغیرہ کا انتظام کیا اور ایک مسجد میں کمیٹی والوں سے بڑی سفارش کر کے ان کو مسجد کی امامت دلوائی وغیرہ وغیرہ۔ مگر وہ شخص نہایت جعل ساز فریبی اور جھوٹا ثابت ہوا، کرایہ کا مکان بھی جعل کر کے غصب کر لیا اور مسجد میں تفرقہ فتنہ وفساد پیدا کر دیا جس کی وجہ سے کافی خلفشار ہے اور متولیان وممبران مسجد نے آنا چھوڑ دیا اور اس کی نازیبا حرکتوں کی وجہ سے الگ جماعت اسی مسجد کے بالائی حصہ…
جواب
جھوٹ بولنا اور دھوکہ دیکر جعلی بیع نامہ بنانا اور دوسرے کے مکان پر غاصبانہ قبضہ کرنا شرعاً نا جائز ہے اور سخت گناہ ہے۔ اگر یہ تحریر کردہ واقعات اسی طرح ہیں۔ ان میں جھوٹ نہیں تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے تا وقتیکہ امام توبہ کر کے اپنی اصلاح نہ کرے اس کے پیچھے نماز مکروہ ادا ہوگی۔ دوسری جماعت اسی مسجد میں کرنا بھی مکروہ ہے۔ اس سے بھی پرہیز لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔