جعلسازی کرنے والے کی امامت
سوال
زید ایک اسلامی ادارہ میں تنخواہ دار امام ہے۔ زید نے ادارہ کو اپنے حجرہ مسکونہ کی مرمت کرانے کی اطلاع دی اور مبلغ چالیس ۴۰ روپئے مطالبہ کیا۔ ادارہ نے اس سے ادائیگی مبلغ چالیس ۴۰ روپئے کی رسید طلب کی تو امام مذکور نے ایک رسید اپنی ادائیگی کی تصدیق کر کے ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ ادارہ کے افسر اعلیٰ نے اس مرمت کی جانچ کے لئے ایک شخص کو متعین کر دیا جس پر اس نے رپوٹ دی کی حجرہ کی مرمت ایک صاحب خیر نے اپنی جانب سے کرادی ہے اور امام مذکور کا مطالبہ غلط ہے اور رسید جعلی ہے۔ امام مذکور نے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔
جواب
امام نے جعلسازی کر کے غلط طریقہ پر ناحق روپیہ وصول کرنا چاہا مگر اللہ پاک نے ناکام کر کے اس کو بچادیا وہ ناحق روپیہ وصول نہیں کر سکا جب اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی اور کرم کر کے ناجائز روپیہ اس تک نہیں پہو نچنے دیا تو اب اگر وہ اپنی غلطی پر نادم ہو کر توبہ کرلے تو مقتدی کو بھی چاہئے کہ اس کو معاف کر دیں۔ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ الحديث۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔