فجر کے وقت سوئے رہنے اور کم سن بچوں سے تنہائی میں خدمت لینے والے کی امامت
سوال
زید ایک مسجد کا امام ہے، ساتھ ہی بچوں کو تعلیم کا بھی کام ان کے ذمہ ہے۔ امام موصوف بسا اوقات فجر کی نماز مقتدیوں کے بار بار بلانے پر بھی نہیں پڑھاتے۔ تو عاجز آ کر دوسرے آدمی کو پڑھانا پڑتا ہے اور امام صاحب سوئے رہتے ہیں۔ کچھ کم سن بچے ایسے بھی ہیں جن کی عمر بارہ چودہ برس کی ہوگی، اپنے کمرہ میں بند کر لینے کے بعد ان بچوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے، وہ اللہ جانے لیکن بار بار ایسا دیکھنے کے بعد جب ان سے اس کی شکایت کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ کمرہ بند کر کے ان سے کچھ خدمت کرا لیتے ہیں۔
جواب
اگر نیند کا غلبہ ہے جس کی وجہ سے بیدار نہیں ہو پاتے تب تو ان کو علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ اس کا انتظام ضروری ہے کہ وقت پر بیدار ہو جایا کریں، رات کو بعد عشاء جلد سو جائیں، گھڑی الارم کا انتظام کیا جائے۔ ایسی جگہ اور اس طرح سوئیں کہ ان کو بیدار کرنا سہل ہو، مؤذن یا کوئی اور شخص بیدار کر دیا کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔