الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو شخص نماز کا عادی نہ ہو اس کو امام مقرر کرنا

سوال

زید کو نماز پڑھنے کی عادت نہیں مگر وہ امامت کرانے کی لیاقت رکھتا ہے تو اگر اہل محلہ اس کے واسطے کچھ ٹھہرا کر اس کو امام بنالیں اور وہ اس لالچ کی وجہ سے امام بن جائے اور نماز کا عادی ہو جائے تو آیا اس کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں۔ اگر جائز ہے تو وہ نماز مکروہ ہوگی یا نہیں اگر ہو گی تو وہ تحریمی ہوگی یا تنزیہی اگر بغیر کچھ ٹھہرائے اس خیال سے امام بن جائے کہ لوگ میری عزت کریں گے اور نماز کا عادی ہو جائے۔

جواب

جب تک زید نماز کا عادی نہیں تو فاسق تھا اس کی امامت مکروہ تحریمی تھی۔ جب توبہ کر کے نماز کا عادی ہو گیا تو اس کی امامت جائز ہوگی کچھ ٹھہرا کر امامت کرائے یا بلا ٹھہرائے دونوں حالتوں میں اس کی امامت صحیح ہے رہا نیت کا حال سو وہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے محض قیاس سے اس کی نیت کو فاسد کہہ کر اس کی امامت کو نا جائز نہیں کہا جا سکتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو