زبردستی طلاق کی وجہ سے امامت درست ہو گی یا نہیں؟
سوال
زید کو بہکا کر سسرال والوں نے اپنے گھر بلا لیا اور کورے کاغذ پر انگوٹھے کا نشان لگوالیا اس کے بعد زید گھر آگیا مگر چند لوگ امام مسجد کے ساتھ ہیں اور خدا کا واسطہ دے کر کہا کہ کوئی دھوکہ والی بات نہیں، زید اپنی بیوی کے پاس گیا، امام ہونے کی وجہ سے لوگوں نے یقین کر لیا اور لڑکا یعنی زید اس کے ساتھ کر دیا، لڑکی والے نے گھر لیجا کر اس کو مارا پیٹا اور زبردستی طلاق لے لی۔ لڑکی بے پردہ رہتی ہے وہ امامت کا مستحق ہے یا نہیں؟
جواب
اگر امام صاحب نے بلا وجہ شرعی محض دھوکہ دے کر دیدہ ودانستہ اس طرح جبراً طلاق دلوانے میں مدد کی ہے تو وہ بھی گنہگار ہوئے کہ انہوں نے ظلم کی مدد کی ہے اگر وہ توبہ نہ کریں اور اپنی غلطی کا اقرار نہ کریں تو ان کو امام بنانا مکروہ ہوگا اگر حالات دوسرے ہوں تو حکم بھی دوسرا ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔