الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو امام مقتدی سے صلح نہ کرے اس کی امامت

سوال

ایک امام اور مقتدی میں کچھ جھگڑا ہوا بروز جمعہ یہ معاملہ پیش ہو کر یہ بات طے ہوئی کہ خطا کسی کی نہیں بلکہ دونوں صاحب کی بھول ہے اس لئے صلح کر لو کیوں کہ مرتبہ میں تو امام صاحب بڑے اور عمر میں مقتدی صاحب بڑے ہیں۔ لہذا دونوں مصافحہ ملا لو مگر سارے گاؤں کے کہنے پر بھی پیش امام صاحب نے مصافحہ نہیں کیا اس مقتدی کی نماز اس پیش امام کے پیچھے ہو رہی ہے یا نہیں اس طرح سے بہت سے مقتدیوں کے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے جو اپنے مقتدیوں سے بغض وکینہ رکھے اور صلح پر رضا مند نہ ہو؟

جواب

نماز تو اس مقتدی کی بلکہ سب مقتدیوں کی ان کے پیچھے بھی درست ہو گئی لیکن امام صاحب کے لئے یہ طریقہ اچھا نہیں بہت غلط اور سخت ناپسندیدہ ہے جو شخص مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہو اور صلح کرنا چاہتا ہے اور بستی کے لوگ بھی سب خواہشمند ہیں تو امام صاحب کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ وہ مصافحہ نہ کریں اور دل میں کینہ رکھیں ان کی بھی اپنی اصلاح ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو