الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا امام صاحب کو پابندی ضروری ہے

سوال

شہر کی دینی ضروریات اور جامع مسجد کی امامت کے لئے ایک مولوی صاحب کا تقرر کیا گیا، جن کی تنخواہ نصف سے زائد حصہ اوقاف کی آمدنی سے دیا جاتا ہے، نیز جامع مسجد کے وقف کی آمدنی سے پچاس روپیہ ماہوار اور اسی حیثیت کے کرایہ کے مکان جو کہ جامع مسجد کے لئے وقف ہے، مولوی صاحب موصوف کو بغرض رہائش دیا گیا ہے، لیکن مولوی صاحب موصوف نہ تو نماز کے اوقات کی پابندی کرتے ہیں، نہ قرآن پاک کا ترجمہ وغیرہ نہ امامت، طبیعت چاہی تو نماز پڑھادی ورنہ جہاں چاہا نماز پڑھ لی، نیز دوسرے تیسرے مہینہ ہفتہ عشرہ کی چھٹی منالی اور پھر گھر آگئے، خواہ…

جواب

امامت اور ترجمہ کا جو کچھ مولوی صاحب سے معاہدہ کیا گیا ہے، اس کی پابندی لازم ہے، اتفاقیہ کبھی کوئی سخت ضرورت پیش آجائے، اور اس کی وجہ سے حاضر نہ ہوسکیں، یا ترجمہ نہ کرسکیں تو قابل مصالحت ہے، اس پر زیادہ دارو گیر نہ کی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو