الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر حافظ کی امامت

سوال

ہم نے نماز پڑھانے کے لئے ایک امام رکھا تھا اور ان سے یہ وعدہ تھا کہ ہم حافظ قرآن رکھتے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ میں حافظ ہوں وہ حافظ نہیں، یہ کہتے رہے کہ میں حافظ ہوں اور جب ان سے کہا کہ سناؤ گے یا نہیں انہوں نے کہا میں حافظ نہیں۔ نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر انہوں نے اتفاقیہ غلط بیانی کی کہ حافظ نہ ہونے کے باوجود کہہ دیا کہ میں حافظ ہوں، اور پھر ظاہر کر کے کہ میں نے غلط کہا تھا توبہ کر لی کہ آئندہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ تو ان کے پیچھے نماز درست ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ حفظ کیا ہو گا مگر کچا یاد ہو کہ سنانے پر قابو نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو