الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گھر میں جماعت کرنا

سوال

مولانا تھانوی کی کسی تصنیف میں جو کہ یاد نہیں ہے اور ایضاح البخاری کے کسی جز میں مولانا سید فخر الدین صاحب مد ظله صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند نے کہیں تحریر فرمایا ہے کہ بغیر عذر کے فرض نماز غیر مسجد میں پڑھنا جائز نہیں اور یہ حکم حنفیوں کے لئے تحریر فرمایا ہے اور یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ اگر گھر میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ جماعت کرے تو جائز ہے، وہ بھی جب کہ مسجد میں جماعت ہوگئی ہو تو صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

مسجد قریب موجود ہو اور پھر وہاں کی جماعت بلا عذر ترک کر کے مکان پر کوئی شخص اپنی نماز پڑھ لے تو اگرچہ فریضہ ادا ہو جاتا ہے مگر یہ بہت بڑی محرومی ہے۔ حدیث پاک میں ہے۔ لا صلواة لجار المسجد الا في المسجد - اگر مسجد میں جا کر معلوم ہو کہ جماعت ہو چکی ہے تو اپنے مکان پر اہل وعیال کو لے کر جماعت کر لی جائے۔ مسجد کی جماعت کا مستقلاً ترک کرنا گناہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو