امام کی خرابی کی وجہ سے نماز گھر پر پڑھنا
سوال
ایک شخص دیکھتا ہے کہ مسجد کے عمارت میں روپیہ سود کھانے والوں کا لگا ہے اور چندہ وغیرہ کا روپیہ بھی زیادہ لگا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ شخص امام کی حالت باطنی کو دیکھتا ہے تو اس کو حالت خراب معلوم ہوتی ہے تو اس سے اس کی طبیعت نفرت کرتی ہے کیا وہ بوجہ ایں اعذار نماز گھر میں پڑھ سکتا ہے یا اس کے لئے ضروری ہے کہ مسجد میں جاوے اور باجماعت نماز پڑھے اور یہی حالت اس کی ارد گرد والی مسجدوں کی ہے؟
جواب
جب کہ کسی دوسری مسجد میں جانے سے معذوری ہے اور اس مسجد میں زیادہ روپیہ چندہ کا ہے (جو کہ بظاہر جائز ہے) تو ایسی حالت میں نماز مسجد میں پڑھنی چاہئے گھر میں نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ جماعت کی بہت تاکید کی گئی ہے تارک جماعت (یعنی جو کہ ترک جماعت کا عادی ہو) کو فاسق لکھا ہے اور جماعت کا ثواب بھی تنہا سے زیادہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔