ملازمت کی وجہ سے ترک جماعت کا حکم
سوال
زید جماعت سے قبل نماز پڑھنا چاہتا ہے۔ اگر جماعت سے قبل نماز نہ پڑھے تو زید ملازم پیشہ ہے ملازمت چھوٹنے کا خطرہ ہے اور اس کے گھر میں کوئی جگہ اس قابل نہیں جہاں وہ نماز ادا کر سکے اس حالت میں وہ مسجد میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں یا مسجد کے کسی ایسے حصہ میں جو مسجد کی حدود سے خارج ہو؟
جواب
زید کو ایسی ملازمت کرنا جس میں کبھی ترک جماعت بغیر کام نہ چلے منع ہے، اس کو چاہئے کہ کوئی دوسری ملازمت یا گذران کی دوسری صورت اختیار کرے جو ادائے فرض وسنن میں حارج نہ ہو اور جب مل جائے تو ملازمت موجودہ کو ترک کر دے بحالت مجبوری مسجد میں بھی تنہا نماز درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔