الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تارک جماعت کا حکم

سوال

زید ایک مالدار آدمی ہیں اور حاجی بھی ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں لیکن محلہ کی مسجد میں صرف ایک مہینہ رمضان شریف میں آتے ہیں۔ بقیہ گیارہ مہینے مسجد میں نہیں آتے ایسے شخص کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

جو شخص بلا عذر اس طرح جماعت کو دائماً ترک کرتا ہے وہ گنہگار ہے۔ اس کی شہادت قبول نہیں۔ قال في شرح المنية والاحكام تدل على الوجوب من ان تاركها بلا عذر يعزر وترد شهادته ويأثم الجيران بالسكوت عنه اھ شامی ص ۳۷۱ ج ۱۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو