مسجد میں امام سے قبل تنہا نماز پڑھنا
سوال
میں نے ایک روز فجر کی نماز میں امام صاحب کا انتظار کرتے ہوئے تنہا نماز پڑھ لی۔ اس سے پہلے بھی کبھی کبھی تنہا نماز پڑھ لیتا تھا۔ کیوں کہ فرض نماز کے بعد کچھ وظیفہ وغیرہ پڑھتا ہوں، مجھے امام صاحب برابر معاف کرتے رہے مگر اس دن معاف نہیں کیا۔ دل میں شک ہوا۔ اس دن عصر کی نماز بھی تنہا پڑھی کہ امام صاحب کچھ کہتے ہیں یا نہیں، مگر کچھ نہیں کہا۔ ایک مقتدی نے امام صاحب سے میرے بارے میں پوچھا کہ انھوں نے تنہا نماز کیوں پڑھی؟ تو امام صاحب نے کہا کہ ان کی نماز تو من چاہی ہے، کبھی پڑھتے ہیں کبھی نہیں پڑھتے۔
جواب
اپنا وظیفہ پڑھنے کی خاطر جماعت سے پہلے ہی تنہا نماز پڑھ لینا بڑی غلطی اور محرومی ہے۔ نیز بلا عذر کے محض اس وجہ سے تنہا پڑھنا کہ امام صاحب پوچھیں گے یا نہیں، یہ بھی غلطی ہے۔ ایسا ہر گز نہ کرے۔ اپنے عمل سے آپ نے ظاہر کر ہی دیا کہ جب آپ کا دل چاہا آپ نے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھ لی، نہیں دل چاہا تو نہیں پڑھی، یہی بات امام صاحب نے بھی کہدی تو آپ کیوں ناخوش ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔