الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سورہ فاتحہ اور سورہ کے درمیان تسمیہ کا حکم

سوال

سورہ فاتحہ اور سورۃ کے درمیان تسمیہ پڑھنا کیسا ہے اگر پڑھ لیا جائے تو حنفیہ کے نزدیک کیا ہوگا جہراً وسراً بھی تشریح کر دیں گے اس کے متعلق صاحب در مختار لکھتے ہیں ” لا تسن بين الفاتحة والسورة مطلقاً ولو سرية ولا تكره اتفاقاً (باب صفة الصلواة)

جواب

رد المحتار ج ۱ ص ۴۵۷ اور شرح مراقی الفلاح میں تصحیح اور فتویٰ مذکور ہے، نیز بحر، ج ۱ ص ۳۱۲ میں مذکور ہے ملاحظہ فرمائیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو