تکبیر اولیٰ کے لئے دوسری مسجد میں جانا
سوال
زید ایک مدرسہ میں پڑھتا ہے، مدرسہ کی مسجد میں اس نے وضو کیا جماعت کھڑی ہو چکی تھی، اور کچھ نماز ہو چکی تھی، کہ وہ وضو سے فارغ ہو کر کسی قریب کی مسجد میں اس لئے جاتا ہے کہ وہاں تکبیر اولی کا ثواب بھی مل جائے گا، یہ اس کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ کیا حکم ہے؟ خروج من المسجد قبل ان يصلى ” مكروه تحریمی ہے، اور علت یا حکمت ہے تہمت یا مخالفت امام، دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ تہمت حکمت ہے (کہ جس کے ساتھ حکم وجوداً وعدماً دائر نہیں ہوتا) یا یہ علت ہے (کہ جس کے ساتھ حکم وجوداً وعدماً دائر ہوتا ہے)
جواب
فتاوی رشیدیہ جلد ۱ ص ۲۸ / میں ہے، جماعت کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں کہ پوری نماز امام کے ساتھ ملے ہر گز نہ جاوے کہ اعراض جماعت مسلمين سے ظاہر ہے، اور دوسری جگہ نماز کا ملنا محتمل ہے، اور اس مسجد کا حق تلف ہوتا ہے، اور صورت تہمت واعراض ہے، یہ علت حقیقیہ نہیں کہ طرد وعکس لازم ہو بلکہ یہ امارات ہیں نیز جب کہ خروج عن المسجد بعد النداء کی مخالفت پر نص موجود ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔