مقتدیوں کی اطلاع کیلئے کسی کو آمین بالجہر کیلئے متعین کرنا
سوال
امام صاحب بکر کو حکم دیتے ہیں، کہ میری آواز دور تک نہیں جاتی، لہذا تم آمین زور سے (بالجہر) کہدیا کرو تا کہ دوسرے لوگ اس کی آمین سنکر آمین کہیں، جو حنفی مسلک کے خلاف ہے، امام صاحب ضعیف آدمی ہیں، ایک مرتبہ انہوں نے بوجہ کثرت جماعت بکر کو کہا کہ تم آمین بالجہر کہنا تا کہ باقی مقتدیوں کو پتہ چل جائے، لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، امام صاحب نے جواب دیا کہ بکر بھی مقتدی ہے اس کو آمین جہراً کہنا جائز ہے، تمام ائمہ رحمہم اللہ تعالیٰ میں اختلاف افضلیت میں ہے، احناف کے نزدیک سرا افضل ہے، اور شوافع کے نزدیک جہراً افضل ہے، جیسا…
جواب
اس اطلاع کے لئے آمین بالجہر کہنے کی کیا ضرورت ہے، جبکہ حنفیہ کے نزدیک آمین آہستہ کہنا سنت ہے بالجہر سنت نہیں۔ تو پھر بالجہر کہہ کر یا کسی مقتدی سے کہلوا کر شور وشغب کا دروازہ کھولنا قرین دانشمندی نہیں، اور محض ایک مرتبہ آمین بالجہر کہنے سے مقتدیوں کا امام کو غیر مقلد کہنا بھی صحیح نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔