الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آمین بالجہر سے دوسروں کی نماز پر اثر

سوال

ہم حنفیوں کی جماعت میں اہل حدیث مسلک کے لوگ شریک نماز ہو کر الحمد کے بعد آمین بالجہر اپنے طریقہ کے مطابق بلند آواز سے کہتے ہیں، کیا بلند آواز سے کہنے سے ہماری نماز میں کوئی خرابی نہیں آئی، اور انکو مسجد میں آنے سے روکنے کا حق ہم لوگوں کو ہے کہ نہیں؟

جواب

ان کے زور سے آمین کہنے کی وجہ سے حنفیوں کی نماز خراب نہیں ہوگی، اگر وہ کوئی فتنہ فساد نہیں کرتے، مسجد میں آکر صرف اپنے طریقہ پر نماز پڑھتے ہیں، تو ان کو مسجد میں آنے سے نہ روکیں، نہ ان سے بحث کریں۔ جواب صحیح ہے، لیکن اہل حدیث حضرات کے نزدیک بھی بالجہر آمین کہنا ضروری نہیں ہے، بلکہ صرف اتنی آواز سے کہنا کافی ہے کہ پاس کا آدمی سن سکے، اسلئے بلا وجہ زور سے چیخنے کے بجائے جہر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو