بوقت تحریم مس اذنین
سوال
شرح وقایہ میں حاشیہ کے اوپر مولانا عبدالحی نے لکھا ہے ” وهو ليس بسنة مستقلة فانه لا دليل عليه في رواية “لہذا اگر کسی شخص نے رفع یدین کے وقت مس اذنین کیا تو خلاف سنت ہوگا، اور بغیر مس کے سنت ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ نیز مس اذنین کے وقت اکثر لوگوں کی ہتھیلی قبلہ رخ نہیں ہوتی تو یہ خلاف سنت ہوگا یا نہیں، اور بغیر مس کے بھی ہتھیلی قبلہ رخ نہ ہوئی تو کیا حکم ہے؟
جواب
عبارت منقولہ فی السوال کے متصلاً بعد یہ عبارت بھی ہے” ولعل من استحبه انما استحبه تحقيقا للمحاذاة ودفعا للوسوسة، حاصل یہ ہے کہ أصل سنت (رفع یدین) کی مقدار وتحدید کی تحقیق کے لئے مس ہے پس یہ سنت کی ادائیگی میں معین ہے معارض نہیں ہتھیلی کا قبلہ رخ ہونا مستحب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔