رفع یدین کتنی جگہ ہے
سوال
ایک جماعت اہل حدیث ہے جن کی نمازوں میں فرق ہے وہ جماعت ایک رکعت میں تین مرتبہ رفع یدین کرتی ہے، اور وہ جماعت عورتوں اور مردوں کی نماز میں فرق نہیں بتلاتے مرد بھی کندھوں تک ہاتھ اٹھا کر سینے پر باندھتے ہیں اور عورتیں بھی مردوں کی طرح سجدہ کرتیں ہیں صحیح حدیثوں کا حوالہ دے کر بتلائیے کہ عورتوں اور مردوں کی نماز میں کچھ فرق ہے یا نہیں اور وتر میں بھی ان کے یہاں فرق ہے، دو رکعت وتر پڑھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں، اور الحمد للہ اور سورت پڑھنے کے بعد رکوع میں پہلے جاتے ہیں پھر رکوع سے اٹھنے کے بعد میں تسبیح پڑھ کر سیدھے کھڑے…
جواب
ابتداء میں رفع یدین ایک رکعت میں کئی مرتبہ کیا جاتا تھا، اس کے بعد صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین باقی رہ گیا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے اسی طرح ثابت ہے پھر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر افتتاح کے وقت رفع یدین فرماتے تھے، حضرت امام ابوحنیفہ نے اس کو اختیار فرمایا ہے، دوسرے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔