قیام، قرات، رکوع، سجود کی فرض مقدار
سوال
ارکان نماز میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کم سے کم قیام تکبیر تحریمہ تک فرض ہے، اسی طرح کم سے کم قرآت ایک آیت تک فرض ہے، اسی طرح کم سے کم رکوع ایک تسبیح پڑھنے تک اور کم سے کم سجدہ بھی ایک تسبیح ادا کرنے تک فرض ہے، لیکن توضیح طلب امر یہ ہے کہ زیادہ کی کیا حد ہے؟ اگر کوئی مصلی قیام میں دس آیت تک قرآت کرے تو وہ قیام اور قرآۃ پورے کے پورے فرض ہوں گے یا نہیں، اسی طرح اگر کوئی رکوع وسجدہ میں دس دس بار تسبیح کہنے تک ٹھہرے تو وہ رکوع وسجدہ پورے کے پورے فرض ہونگے یا نہیں، یا کچھ فرض کچھ واجب اور کچھ سنت ہوں گے۔
جواب
قیام، قراءت اور رکوع سجود فرض ہیں ان کی جتنی مقدار بھی ادا کی جائیگی ادا ہو چکنے کے بعد سب کو فرض ہی کہا جائے گا، یہ تقسیم نہ ہوگی کہ ایک تسبیح یا تین تسبیح کے برابر پر رکن فرض ادا ہو باقی واجب یا سنت یا نفل ہو جس نماز میں قیام فرض ہے، اگر ادنی مقدار فرض قیام کرنے کے بعد بقیہ طویل قراءت بحالت قعود کرے پھر کھڑے ہو کر رکوع کرے تو نماز صحیح نہیں ہوگی، اسی طرح مقدار فرض ادا کرنے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔