طول قیام کی حالت میں پیر پر سہارا لینا
سوال
(۱) کیا بغیر طول قیام کی ضرورت کے مطلقاً نماز کے قیام میں تراوح مسنون ہے مفتی بہ قول سے آگاہ فرمایا جائے؟ (۲) عالمگیری اور طحطاوی کی عبارتوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟ (۳) نصب القدمین کو سنت اور تراوح بلا عذر کو خلاف سنت اور مکروہ کہینگے یا نہیں؟ (۴) تراوح تمایل قیام علی احد القدمین کی تعریف کیا ہے، اور کون مکروہ ہے اور کون فضل اور مسنون ہیں؟
جواب
تراوح کو فقہاء نے افضل لکھا ہے، اور اس کی علت بیان کی ہے، ”لانه ایسر وامکن لطول القيام الخ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ اگر طول قیام نہ ہو تو عدم تراوح اصل ہے، چنانچہ طحطاوی میں ہے “ثم ان هذه العلة لا تظهر فيما اذا كان القيام قصيراً “ امام اعظم نے کعبہ مکرمہ میں داخل ہو کر قیام طویل کیا یعنی دو رکعت میں قرآن پاک ختم فرمایا، پہلی رکعت میں ایک قدم پر بوجھ دیا، دوسری رکعت میں دوسرے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔