الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جدید مسجد کی سمت قبلہ میں تردد

سوال

حاجی عبدالرشید، مستری عبدالعزیز، حاجی رفیق احمد، ماسٹر شاہد حسین منشی اختر حسین نے ایک مشورہ ۱۹۶۹ء میں مسجد بنانے کے لئے کیا، اور کمیٹی کی تشکیل کر کے ۲۰۰۰ مربع گز زمین خرید کر مسجد بنانی شروع کر دی جو تھوڑے ہی دنوں میں پایہ تکمیل کو پہنچی جس مسجد کا نام مسجد نبی کریم رکھا گیا، جو ۱۹۷۰ء میں چالو ہو گئی یعنی نماز پڑھنی شروع کر دی گئی، محلہ کا ایک شخص جس کا نام عبدالشکور ہے اس نے ایک شبہ ڈالا کہ مسجد کا رخ صحیح نہیں ہے، جس پر مدرسہ محمودیہ سروٹ سے عالموں کو دعوت دی گئی، جس میں (۱)

جواب

متدین اہل علم اور اہل تجربہ نے معائنہ کیا، قطب نما سے دیکھا، دیگر مساجد سے بھی رخ کو ملایا، اور اس مسجد کے رخ کو بھی بتا کر نماز کو اس میں صحیح قرار دیا تو اس کو تسلیم کر لینا چاہئے بلا دلیل شرعی کے انکار کا حق نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو