سمت قبلہ
سوال
(۱) ایک مسجد جامع ہے جو تقریبا ایک سو تین برس کی تعمیر شدہ ہے، آج کل اس میں بوجہ تنگی نمازیوں کی سخت تکلیف ہو رہی تھی، مسجد ہذا کو بغرض توسیع و تعمیر جدید منہدم کرایا گیا کہ پہلی بنیاد سے اسے سیدھی کرنے میں اتر کا مغربی گوشہ تین ہاتھ پچھّم جانب، بڑھایا گیا، اور دکھن کا مشرقی گوشہ تین ہاتھ پورب ہٹایا گیا، مگر پھر بھی قطب سے کچھ فرق رہ گیا، کوئی صورت ایسی نہیں ہو سکتی جو قطب سے بالکل سیدھی کی جاسکے، بہت بڑا کنواں مسجد کی بنیاد میں پڑ رہاتھا، ایسی صورت میں مسجد ہذا میں شرعاً کوئی نقص نماز کی ادائیگی وغیرہ میں وقوع…
جواب
اتنے معمولی فرق سے نماز میں نقصان نہیں آتا، تاہم اگر دوبارہ تعمیر سے اصلاح نہ ہوسکی تو صفوف کے نشان صحیح طور پر مسجد میں لگا دئیے جائیں اور انکے موافق رخ صحیح کر لیا جائے مسجد کو گرا کر از سر نو تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں، سمت معلوم کرنے کی بہت سی علامات فقہاء نے لکھی ہیں، قطب بھی ایک دلیل ہے، بلکہ اقوی الادلہ ہے، اہل ہند سے قبلہ کا رخ عامۃً جانب مغرب میں ہے، پس اگر سردی وگرمی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔