اذان کے بعد نقارہ
سوال
ضرب نقارہ قبل یا بعد اذان بغرض ہوشیاری وبیداری غافلین ومتساہلین واطلاع دور دور مسجد سے رہنے والے مسلمانوں کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ علاقہ مدراس میں اکثر شہروں میں رواج ہے۔ بینوا توجروا
جواب
مسلمانوں کو خود شرم وحیا کا موقعہ ہے کہ فریضہ مذہبی ادا کرنے کے لیے اذان کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ نقارہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔