گھنٹی اذان کے قائم مقام ہر گز نہیں
سوال
اگر کسی گاؤں میں مسجد ایک کنارے پر ہے اور اذان پورے گاؤں میں نہ پہونچتی ہو، نمازی لوگ جماعت سے رہ جاتے ہوں تو اذان پڑھ کر اگر خبر کرنے کے لیے گھنٹی بجادی جائے تو ٹھیک ہے یا نہیں، اگر ٹھیک ہے تو کس طرح پوری تفصیل سے تحریر فرمائیں کیونکہ کچھ حضرات کا قول ہے کہ گھنٹی بجانا جائز نہیں جب کہ ہمارے مذہب نے خبر دینے کے لیے اذان مقرر کی ہے اس لیے صحیح جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔
جواب
اذان کو ترک کر کے اس کی جگہ گھنٹی بجانے کی کسی طرح اجازت نہیں۔ اذان کے بعد بھی گھنٹی نہ بجائی جائے خاص کر جب کہ لوگوں کے پاس آج کل گھڑی کا بھی دستور ہے ہر شخص کا نماز کی طرف دھیان لگا رہنا چاہئے بے فکر نہیں رہنا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔