الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گھنٹی اذان کے قائم مقام ہر گز نہیں

سوال

اگر کسی گاؤں میں مسجد ایک کنارے پر ہے اور اذان پورے گاؤں میں نہ پہونچتی ہو، نمازی لوگ جماعت سے رہ جاتے ہوں تو اذان پڑھ کر اگر خبر کرنے کے لیے گھنٹی بجادی جائے تو ٹھیک ہے یا نہیں، اگر ٹھیک ہے تو کس طرح پوری تفصیل سے تحریر فرمائیں کیونکہ کچھ حضرات کا قول ہے کہ گھنٹی بجانا جائز نہیں جب کہ ہمارے مذہب نے خبر دینے کے لیے اذان مقرر کی ہے اس لیے صحیح جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔

جواب

اذان کو ترک کر کے اس کی جگہ گھنٹی بجانے کی کسی طرح اجازت نہیں۔ اذان کے بعد بھی گھنٹی نہ بجائی جائے خاص کر جب کہ لوگوں کے پاس آج کل گھڑی کا بھی دستور ہے ہر شخص کا نماز کی طرف دھیان لگا رہنا چاہئے بے فکر نہیں رہنا چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو