الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز فجر کے لئے لوگوں کو جگانا

سوال

میں نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو روز تین بجے صبح کو جگا دیا کروں، تا کہ لوگ نماز کے لئے اٹھیں، اور اپنے کاروبار میں لگ جائیں، میں یہ کام صرف اللہ کے واسطے کرتا ہوں اگر لوگ میری امداد فطرے سے کریں تو لینا جائز ہے، یا نہیں؟ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تیرے پھیری دینے سے ہماری نیند خراب ہو جاتی ہے، تو کیا ان کے کہنے سے پھیری دینا چھوڑ دوں، یہ بات درست ہے یا نہیں؟

جواب

جو لوگ یہ کہیں کہ ہمیں فلاں وقت جگا دیا کرو، ان کو اس وقت جگا دینا درست ہے، نماز کے لئے بھی جگا دینا درست ہے، مگر کوئی ایسا طریقہ جگانے کا اختیار کرنا جس سے بے وقت لوگوں کی نیند خراب ہو درست نہیں، اگر اس جگانے کا پیشہ بنایا ہے تو اس کی وجہ سے بطور معاوضہ فطرہ زکوۃ چرم قربانی لینا درست نہیں، اسکے علاوہ نفلی صدقہ خیرات دیں تو حسب ضرورت لینے میں مضائقہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو