وعظ کے دوران اذان شروع ہو جائے
سوال
ایک شخص چند آدمیوں کو لے کر مسجد میں یا بیرون مسجد درس کی صورت میں کوئی دینی کتاب پڑھ کر سنا رہا ہے یا زبانی وعظ کر رہا ہے، اسی دوران کسی نماز کی اذان کا وقت ہو جاتا ہے اور اذان کی آواز سنائی دیتی ہے، اب کتاب سنانے والے کو کتاب پڑھنا بند کر دینا چاہیے یا کہ جاری رکھنا چاہیے نیز اس صورت میں کتاب پڑھنے والے یا وعظ کہنے والے کو اور سننے والے اصحاب کو اذان کا جواب دینا چاہیے یا نہیں؟
جواب
اعلی بات یہ ہے کہ جب اذان شروع ہو جائے تو کتاب، تلاوت، وعظ، تقریر بند کر کے اذان کا جواب دیا جائے پھر دعائے اذان پڑھ کر کتاب، تلاوت، وعظ، تقریر حسب موقع شروع کریں۔ ردالمختار وغیرہ کتب فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ قولوا مثل ما يقول المؤذن۔ فتح القدیر میں اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔