اذان میں کلمات کو کھینچنا
سوال
اگر کوئی مؤذن اذان کو کھینچ کر پڑھتا ہے اور آواز کو بناتا ہے اور الفاظ اذان صحیح ہیں تو کیا اذان ہو جائے گی، اور اگر صحیح نہیں پڑھتا ہے صرف آواز اچھی ہے اس وجہ سے عوام اس کو چاہتی ہے تو کیا اس مؤذن کی اذان اور اقامت ہو جائے گی آیا نماز ہوگی کہ نہیں؟ اور اگر اذان صحیح طریقہ سے پڑھتا ہے اور تکبیر میں غلطی ہے تو کیا صورت ہے؟
جواب
بے موقع کھینچنا جس سے الفاظ مسخ ہو جاویں درست نہیں ایسی اذان کا اعادہ کیا جائے تکبیر میں بھی اگر ایسا ہی حال ہو وہ بھی درست نہیں ہے اس سے سنت ادا نہیں ہوگی۔ صحیح پڑھنے والے کو امام ومکبر مقرر کیا جائے۔ ولا لحن فيه أي تغنى بغير كلماته فإنه لا يحل فعله
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔